نئی دہلی16 ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)چیف الیکشن کمشنر وی پی راوت نے ہندوستان میں انتخابات کے دوران پیسے کے پڑے پیمانے پر غلط استعمال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سمت میں موجودہ قانون کارگر نہیں ہونے کی وجہ سے کمیشن ریاست سے مالی امداد (اسٹیٹ فنڈنگ ) سے الیکشن لڑنے جیسے اصلاحی اقدامات کی جستجو میں ہے۔
راوت نے ہفتہ کو بین الاقوامی یوم جمہوریت پر بھارت میں انتخابی جمہوریت کی چیلنجزکے موضوع پر منعقد سیمینار میں کہا کہ انتخابات میں پیسے کا غلط استعمال بھارت اور بھارتی انتخابات کے لیے تشویش ناک ہے۔ انتخابی مہم میں فنانسنگ کی شفافیت کے لیے کئی تجاویز آئے ہیں، ان میں اسٹیٹ فنڈنگ بھی شامل ہے۔راوت نے کہا کہ تاہم موجودہ قانونی فریم ورک، اس مسئلے سے نمٹنے میں مکمل طور پر مناسب نہیں ہے۔ اس لئے کمیشن نے اس سمت میں بہت اصلاحی اقدامات کی تجویز دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک اسٹیٹ فنڈنگ کا سوال ہے، کمیشن یہ محسوس کرتا ہے کہ پیسے کے ذریعہ خرید و فروخت پر کنٹرول کرنا ضروری ہے کیونکہ جب تک انتخابی اکھاڑے میں پیسہ کی چمک رہے گی تب تک اسٹیٹ فنڈ نگ جیسی پہل اپنے مقصد کی تکمیل نہیں کر پائے گی۔
راوت نے کہا کہ دہلی ریاستی الیکشن آفس کی طرف سے منعقد اس طرح کے سیمینار کے ذریعے انتخابی اصلاحات کے کارگر اقدامات پر غور و خوض کے بعد لاگو کرنا مؤثر پہل ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت دیگر جمہوری ممالک میں انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے ڈیٹا چوری اور جعلی خبروں کی اشاعت آج اور کل کے لیے خطرناک ہے ۔راوت نے کیمبرج معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرضی خبروں کے بڑھتے خطرے سے عالمی رائے عامہ متاثر ہونے کی بھی تشویش بڑھ گئی ہے ۔
انہوں نے دہلی کے چیف الیکشن افسر وجے دیو کی پہل پر منعقد ہ سیمینار کی ستایش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ہی ان مسائل کا حل نکلے گا ۔انہوں نے پریس کی آزادی کو فروغ دینے اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہاؤسز کو فرضی خبرو ں کی اشاعت روکنے کے لیے عالمی سطح پر اختیار کئے جا رہے کارگر اقدامات کے استعمال کی پہل کرنی چاہیے۔ سیمینار میں الیکشن کمشنر ، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، سینئر وکیل دشینت دوے، سماجی علوم کے ماہر پروفیسر نرنجن ساہو اور سینئر صحافی پراجے گوہا نے بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔